Monday, November 11, 2013

شاعر کی خصوصیات خواجہ میر درد

شاعر کی خصوصیات
خواجہ میر درد

ایک تعارف

تا قیامت نہیں مٹنے کا دلِ عالم سے
درد ہم اپنے عوض چھوڑے اثر جاتے ہیں

خواجہ میر درد دہلی کے ان معروف شعراءمیں سے ہیں جن کی وجہ سے دہلی کی عمارتِ سخن قائم تھی۔ میر درد کو کئی اعتبار سے امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ وہ ایک بلند فکر‘ درویش صفت اور صاحبِ حال انسان تھے جن کی زندگی توکل کااعلیٰ نمونہ ہے۔ درد نے جب شاعری کی دنیا میں اپناکمال دکھایا تو اردو شاعری رنگِ تغزل کے ساتھ ساتھ رنگِ تصوف سے بھی مالا مال ہو گئی۔ ان کی شاعری میں ایک طرف تصوف کا گلاب مہک رہا ہے تو دوسری طرف معرفت کے موتی چمک رہے ہیں۔ کہساروںکا سا تکلم‘ آبشاروں کاسا ترنّم اور چاندنی جیسی پاکیزگی ان کے کلام کو معطر و منور کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کو دنیائے سخن میں شہنشائے تصوف کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور عام معاصر اور متاخر تذکرہ نگار ان کاذکر کمالِ احترام سے کرتے ہیں۔
نواب جعفر علی خان درد کے بارے میں کہتے ہیں۔
اُن کے پاکیزہ کلام کے مطالعے کے لئے پاکیزہ نگاہ درکار ہے۔
درد کے محاسنِ کلام
خواجہ میر درد کے طرزِ کلام کی خصوصیات درج ذیل ہیں۔

تصوف کا رنگ

خواجہ میر درد کی زندگی اور شاعری دونوں تصوف کے انوار میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اسی لئے وہ اردو کے سب سے بڑے صوفی شاعر کہلاتے ہیں۔ ان کا منفرد اندازِ بیان ان کو دیگر صوفی شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔ وہ اپنے طرزِ فکر کو نرم و ملائم مصرعوں میں بیان کرتے ہیں جو ان کی قلبی کیفیتوں کا آئینہ دار ہیں۔ بطور امثال
 
ارض و سما کہاں تیری وسعت کو پا سکے
  میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے
تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے
 
جگ میں آکر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

  سادگی

درد اپنے احساسات کی ترجمانی نہایت سہل ،شستہ‘ ہلکی پھلکی اورعام فہم زبان میں کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں سلاست اور روانی ہے جو ان کے کلام کو نہایت پر اثر بناتا ہے اور قاری نہایت آسانی سے سمجھ جاتا ہے۔ بقول درد
آتشِ عشق جی جلاتی ہے
یہ بلا جان پر ہی آتی ہے
  دل زمانے کے ہاتھ سے سالم
کوئی ہوگا کہ رہ گیا ہوگا

ذکر وہ میرا کرتا تھا صریحاً لیکن
میں نے پوچھا تو کہا خیر یہ مذکور نہ تھا

حوصلہ مندی

درد کا دور تاریخی اعتبار سے پر آشوب دور تھا۔ حالات کی ناسازگاری اور فکر معاش کی وجہ سے کئی شعراء لکھنو اور دوسرے مقامات کا رخ کر رہے تھے۔ لیکن ان تمام حالات کے باوجود درد کی پائے استقامت میں کوئی لغزش نہ آئی اور وہ تمام عمر دہلی میں رہ کر حالات کا مقابلہ کرتے رہے۔ ان کی اس کیفیت کا رنگ ان کے کلام میں بھی نظر آتا ہے

آیا نہ اعتدال میں ہرگز مزاجِ دہر
میں گرچہ گرم و سردِ زمانہ سمو گیا  

حیران آئینہ دار ہیں ہم
کس سے دوچار ہیں ہم
 
جان پر کھیلا ہوں میں‘ مگر جگر دیکھنا
جی رہے یا نہ رہے پھر بھی ادھر دیکھنا


موسیقیت اور ترنّم

درد روکھے اور خشک مزاج صوفی نہ تھے۔ وہ فنونِ لطیفہ سے آشنا تھے خاص طور پر موسیقی سے گہرا لگاو رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں حسن ونغمگی کا احساس ہے۔ ان کی غزلیں موسیقی کی خاص دھنوں اور سرتال پر پوری اترتی ہیں۔ بطور مثال

     سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا

     بس ہجوم یاس جی گھبرا گیا
تہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے کس لئے آئے تھے کیا کر چلے
قتلِ عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا پر تیرے عہد کے آگے تو یہ دستور نہ تھا
بے ثباتی حیات
درد کی شاعری میں دنیا کی بے ثباتی کا رنگ جھلکتا ہے۔ ایک صوفی شاعر ہونے کی حیثیت سے وہ اپنے اشعار میں اس نظریہ کی ترجمانی کرتے ہیں کہ دنیوی زندگی عارضی ہے اوراصل زندگی وہ ابدی اور دائمی زندگی ہے جو بعد الموت شروع ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر
وائے نادانی کے وقت مرگ یہ ثابت ہوا
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا

ساقی اس وقت کو غنیمت جان
پھر نہ میں ہوں‘ نہ تو‘ نہ یہ گلشن

درد کچھ معلوم بھی ہے یہ لوگ
کس طرف سے آئے تھے کیدھر چلے

امتزاجِ مجاز و حقیقت

شاعر کے کلام میں عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی کا رنگ کچھ اس طرح سے ہم آہنگ ہے کہ ان دونوں میں امتیاز کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ درد کا کمال یہ کہ ان اشعار کے مطالعے کے بعد قاری کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ محبوبِ حقیقی سے ہمکلام ہیں یا محبوبِ مجازی سے۔ مثال کے طور پر
اپنے ملنے سے منع مت کر
اس میں بے اختیار ہیں ہم

جی کی جی میں رہی بات نہ ہونے پائی
حیف ہے ان سے ملاقات نہ ہونے پائی

کچھ ہے خبر کہ اٹھ اٹھ کے رات کو
عاشق تیری گلی میں کئی بار ہو گیا

سوز و گداز

اثرِ آفرینی اوردردمندی کلامِ درد کی نمایا ںخصوصیات ہیں۔ ان کی شاعری سادگی اور حقیقت نگاری کی وجہ سے دردواثر اور سوزوگداز کا مرقع ہے۔ ان کی ہر بات دل سے نکلتی ہے اور دل میں اترتی ہے۔ بقول محمد حسین آزاد۔

درد تلواروں کی آبداری نشتر میں بھر دیتے ہیں۔ 

بطور مثال درج ذیل نمونہ کلام پیش ہے 
 
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

خارِ مژہ پڑے ہیں مری خاک میں ملے
اے دشت اپنے کےجےو داماں کی احتیاط

وحدت الوجود
درد کا محبوب اللہ تعالیٰ ہے۔ ان کے کلام سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ وحدت الوجود کے قائل ہیں۔ ان کی نگاہ میں کائنات کا ہر ذرّہ ِِجمال نورِخداوندی کا مظہر ہے اور ہر شے میں ایک ہی ہستی جلوہ گر ہے۔ بقول درد
جوں نورِ بصر تیرا تصور
تھا پیشِ نظر جدھر گئے ہم

بیگانہ گر نظر پڑے تو آشنا کو دیکھ
بندہ گر آوے سامنے تو بھی خدا کو دیکھ

غزل کا رنگ
خواجہ میر درد کی شاعری میں ایک طرف تصوف کا گلاب مہک رہا ہے تو دوسری طرف رنگِ تغزل پورے گلشن کو مہکا رہا ہے۔ ان کے کلام میں غزل کے تمام لوازمات موجود ہیںخواہ وہ محبوب سے ناراضگی کا احساس ہو یا شامِ غم کی کیفیات۔ مثال کی طور پر
درد کوئی بلا ہے وہ شوخ مزاج
اس کو چھیڑا برا کیا تو نے

رات مجلس میں تیرے حسن کے شعلے کے حضور
شمع کے منہ پر جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا

معروف تنقید نگاروں کی آرائ

ایک مشہور و معروف شاعر ہو نے کی حیثیت سے میر درد کے بارے میں مختلف نقادوں نے اپنی آراء پیش کی۔ میرحسن لکھتے ہیں۔ درد آسمانِ سخن کے خورشید ہیں۔
مرزا علی لطف گلشنِ ہند میں لکھتے ہیں۔
اگرچہ دیوانِِ درد بہت مختصر ہے لیکن سراپا دردواثر رکھتا ہے۔
بقول رام بابو سکسینہ۔
درد کی غزلیں زبان کی سادگی اور صفائی میں میر کا کلام کا مزہ دیتی ہیں۔

IX ENGLISH NOTES (Responsibilities of a Good Citizen)

Responsibilities of a Good Citizen


  • Question and Answers

Q.1 Where did men live in early days? Ans. In the earlier days men lived in caves like animals. Their lives were difficult and each of them lived by himself and for himself.
Q.2 Why did they begin to live together? Ans. They began to live together in order to had a safer and better life.
Q.3 What happened when society grew larger? Ans. In the early societies their were only farmers, weavers, cobblers, masons and soldiers. As society grew larger and as men became more civilized many professions and occupation develop. Hence, today we have doctors, teachers, engineers, artist, writers, policemen and a host of other owrkers who all do something for their fellow-men.
Q.4 What should a trader do? Ans. A trader should not sell substandard goods and should work honestly and fairly.
 
Q.5 What should a milkmen do? Ans. A milkmen should not mix water in the milk.
Q.6 If someone is dishonest, what does he teach others? Ans. If someone is dishonest, he teaches others to be dishonest too.
Q.7 How does a bad citizen deserved to be treated? Ans.A bad citizen should be punished, he should be treated in the same way in which he treats others.
Q.8 What is our duty to our country? Ans. Our duty to our country is to under stand the problem faced by our country. We must cooperate with our Government in solving these problems. It is our duty to be loyal and patriotic to Pakistan and follow its laws, to pay the taxes honestly and promptly.
Q.9 How important are our neighbour to us according to the Holy Prophet (P.B.U.H)? Ans. According to Holy Prophet (P.B.U.H) our neighbours are as important as our brothers.
Q.10 What must we do to be good Muslim? Ans. We must be good, honest and dutiful citizen in order to be a good Muslim.
Q.11 What are the problems that Pakistan are facing? What has our government done to solve these problems? Ans. 
problems facing Pakistan are poverty and illiteracy.
The government of Pakistan have started many programs to solve these problem. These are program for rural development, illiteracy and adult education, health, sanitation and social welfare and population planning. Education centre, family and social welfare and population planning centres have been setup throughout the country.

IX ENGLISH NOTES

The Guddu Barrage

  • Question and Answers

Q.1 How have rivers served men? Ans. Rivers have served men in the following ways:
  • They have served as trade route before the road and railways were constructed people carried on trade by boats and ships.
  • Since rivers have water in abundance man through digging cannals to obtain water from river for irrigation.

Q.2 What is a barrage? What purpose does it serve?
Ans. A barrage is a kind of a well which blocks the flow of water. It has gates, through which the water is allowed to pass in a limited quantity.
Its aim is to control the flow of water in the flood seasons and store it in such a manner that the canal get water through out the year. In this way, farmers can be given water for their fields. Life and property canals can be protected from flood by stopping the flow of water.

Q.3 Why were most of the town in ancient times build near rivers?
Ans. Most of the towns were built near river because river played very important role in the life of man. They have served as trade routes from the earliest time, trade was earned by boats and ships along rivers.

Q.4 What are the benefits of Guddu Barrage?
Ans. The Guddu Barrage is built on the river Indus. We get benefit from the Guddu Barrage in the following ways:
1. It control the flow of water in the flood season and in this way life and property can be protected from floods.
2. It stores water in such a way that the canal can get water through out the year and the farmers can give water to their fields according to their needs.
3. The seven meter wide road over the barrage has reduced the road distance between Lahore and Quetta and between Rahimyar Khan and Kashmore.
@import "/extensions/GoogleAdSense/GoogleAdSense.css";

Q.5 Name the main canals built on the Guddu Barrage?
Ans. Guddu Barrage has a system of three main canals. Two on the right bank and one on the left.
1. Begar Sindh Feeder.
2. The Desert Part Feeder on the right bank of Guddu Barrage.
3. The Ghotki Feeder of the left Bank

Q.6 What areas of Sindh are irrigated by Guddu Barrage?
Ans. Guddu Barrage irrigated 2.7 million acres. Most of the acres ies in Sukkur and Jacababad District Sindh.

Q.7 What are the two problems posed by rivers?
Ans. River posed problems such as:
1. How to get the water from the river through out the year.
2. How to escape the fairy of floods.

1st Year Islamiat Notes (اسلامیات) حقوق العباد

   حقوق العباد

حقوق سے مراد

حقوق جمع ہے حق کی جس کا مطلب ہے لازمی اور ضروری۔ حقوق دو قسموں کے ہوتے ہیں:

(۱)حقوق اللہ
(۲) حقوق العباد 


حقوق اللہ 

اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کے ذریعے اپنے سرے حقوق بندوں کو بتادیئے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور تمام وہ کام کرو جس کا اللہ اور رسول نے حکم دیا۔
حقوق العباد

عباد جمع ہے عبد کی جس سے مراد ہے انسان یا بندہ۔ اس طرح حقوق العباد کا مطلب ہے بندوں کے لئے ضروری یعنی حقوق۔ حقوق العباد میں دنیا کے ہر مذہب، ہر ذات و نسل، ہر درجے اور ہر حیثیت کے انسانوں کے حقوق آجاتے ہیں۔ اگر ہم عزیزوں کے حقوق ادا کریں تو اس کے ساتھ غیروں کے حقوق بھی ادا کریں۔ غلام اگر مالک کی خدمت کرے تو مالک بھی غلام کا پورا پورا خیال رکھے۔ والدین اگر اولاد کے لئے اپنی زندگی کی ہر آسائش ترک کردیں تو اولاد بھی ان کی خدمت اور عزت میں کمی نہ کرے یہی اسلام کی تعلیم ہے پوری انسانیت کے لئے ۔ حقوق العباد میں مختلف حیثیت اور درجات کے لوگوں کے حقوق آجاتے ہیں۔

تمام انسانوں کے لئے حقوق

جب ہم انسانی حقوق کا ذکر کرتے ہےں تو اس میں مخصوص قسم کے لوگوں کے حقوق نہیں آتے بلکہ پوری انسانیت ہماری نظر کرم اور توجہ کی منتظر ہوتی ہے۔ اسلام نے پوری انسانیت کے حقوق ادا کرنے پر اس قدر زور دیا ہے کہ کسی بھی مذہب میں کچھ نہیں کہا گیا اور یہی وجہ ہے کہ مسلمان قوم کو بہترین امت کہا گیا ہے۔
مسلمان اس لئے سب سے بہترین امت ہیں کیونکہ وہ لوگوں کو نیکی کی ہدایت دیتے ہیں اور برائی سے روکتی ہیں۔ میں اپنے حقوق کو معاف کردوں گا مگر بندوں کے حقوق کی معافی نہیں دے سکتا۔
والدین کے حقوق

قرآن پاک نے والدین کے حقوق پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے کہ:
ماں باپ کی خدمت گزاری اچھی طرح کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئے کہ جوکچھ اپنے مال سے خرچ کروگے اس میں والدین کا بھی حق ہے۔
حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
ماں باپ کا نافرمان جنت کی خوشبو سے محروم رہے گا۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی والدین نے ساتھ عزت و احترام محبت اور خدمت کی سخت تاکید کی تھی۔ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
تمہاری جنت تمہارے والدین ہیں اگر وہ خوش ہیں تو تم جنت میں جاو گے۔
اولاد کے حقوق

ماں باپ جس طرح اولاد کی پرورش، خدمت اور تعلیم و تربیت کرتے ہیں وہ اولاد کا حق ہے۔ اولاد کی بہترین پرورش اور تعلیم و تربیت ماں باپ کا فرض بن جاتا ہے۔ ایک حدیث اس بات کو اس طرح ثابت کرتی ہے۔
باپ جو کچھ اپنی اولاد کو دیتا ہے ان میں سب سے بہتر عطیہ اچھی تعلیم و تربیت ہے۔
عزیزوں اور قرابت داروںکے حقوق

ہر انسان کے عزیز و اقارب ضرور ہوتے ہیں اور زندگی بھر ان سے تعلق قائم رہتا ہے۔ اللہ نے ان کے بہت سے حقوق مقرر فرمادئیے ہیں:
جوکچھ اپنے مال میں سے خرچ کروگے اس میں والدین کا بھی حق ہے اور قرابت داروں کا بھی۔
حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عزیزوں اور رشتہ دارون کے حقوق مقرر کردئیے اور فرمایا:
رشتہ داروں سے تعلق توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔
اس طرح یہ بات ظاہر ہوگئی کہ قرآن مجید اور احادیث نے عزیزوں اور رشتہ داروں کے بہت سے حقوق مقرر فرمادئیے ہیں۔ یعنی ان کی خوشی اور غم میں شریک ہونا، غریب رشتہ داروں کی مدد کرنا اور اسی طرح کے بہت سے ایسے کام کرنا جن سے رشتہ داروں سے تعلقات خوشگوار قائم رہیں ہمارے فرائض میں شامل ہیں۔

ہمسایوں کے حقوق

ہمسائے کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ہمارے گھر کے بالکل نزدیک ہوتے ہیں اور عزیز نہیں ہیں۔ دوسرے وہ جو عزیز بھی ہوں اور تیسرے وہ جو ہمارے گھر سے ذرا دور رہتے ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ زور ان ہمسایوں پر دیا ہے جو گھر سے بالکل نزدیک رہتے ہےں۔ ان کا ہم پر حق سب سے زیادہ ہے اور وہ ہماری توجہ کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ ہمیں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جو ہمارے ہمسایوں کو تکلیف پہنچائے۔ حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم ہمسایوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے کہ:
اپنے گھر کی دیواریں اتنی اونچی نہ کرو کہ ہمسایوں کی دھوپ اور روشنی رک جائے۔
اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمسایوں کے حقوق کے بارے میں بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بار بار ہمسایوں کے حقوق اس انداز میں مقرر فرمائے کہ یہ ڈر ہوا کہ کہیں وراثت میں ان کا حق نہ مل جائے۔ لہذا ہمیں ہمسایوں سے حسنِ سلوک سے پیش آنا چاہئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جس سے ہمسایوں کے حقوق کی مکمل وضاحت ہوجاتی ہے:
کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ خود پیٹ بھر کے کھالے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہ جائے۔

استادوں کے حقوق


حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔   اسلام نے تعلیم حاصل کرنے پر بہت زور دیا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جو پہلا پیغام ملاتھا وہ لفظ پڑھو سے ملا تھا۔ علم انسان کے لئے اس قدر اہم چیز ہے کہ ماں کی گود سے لے کر قبر تک جاری رہتا ہے اور ہرشخص یعنی مردوعورت، جوان و بوڑھے پر ایک فرض کی طرح عائد کیا گیا ہے۔
جب علم کی اس قدر اہمیت ہے تو معلیم کی اہمیت بھی کچھ کم نہیں ہوسکتی۔ مختصراً یہ کہ والدین جو ہماری پیدائش اور تعلیم و تربیت کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اور معلم جو ہماری نشونما کے ذمہ دار ہوتے ہیں تو والدین کی طرح سے ہی معلم بھی عزت و احترام کے مستحق ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباس سے معلم اور طالبعلم کے درمیان رشتہ اور حیثیت کی اچھی طرح وضاحت ہوتی ہے:
معلم کی حیثیت بارش جیسی ہوتی ہے اور طالبعلم کی حیثیت زمین جیسی جو بارش کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جو زمین بارش کی فیض و برکات سے سرسبزو شاداب ہوجاتی ہے اس کا مطلب ہوا کہ زمین نے پانی کو اپنے اندر جذب کرلیا جو زمین بارش کے پانی کو ضائع کردیتی ہے وہ بنجر ہوجاتی ہے۔ اسی طرح طالبعلم علم کی بارش کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے وہ خوب سیراب ہوجاتا ہے۔ اور اس کا استاد اسکو آگے جاتا ہوا دیکھ کر حسد نہیں کرتابلکہ خوش ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے زمانے میں شاگرداستاد کے نام کو اپنے نام کا حصہ بنالیتے تھے۔

غلاموں، ناداروں، مسکینوں اور مفلسوں کے حقوق

حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مظلوم طبقے کے حقوق اچھی طرح سمجھائے، مقرر کیے اور ادا کئے۔ یہ طبقہ اسلام سے قبل بڑی ذلت آمیز زندگی گزارتا تھا۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف احادیث میں ان سے کے حقوق مقرر کئے:
بیماروں کی عبادت کرنا ان کا حق ہے، یتیموں کی کفالت کرنا ان کا حق ہے۔
حرفِ آخر

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انسانوں کی بہتری اور بقاءکے لئے اپنے اعمال، کردار اور اخلاق و اقوال سے ایسا نمونہ پیش کیا جو قیامت تک کے لئے سب کی رہبری کرتا رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمتِ عالم تھے۔ یہی وجہ تھی کوئی بھی طبقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اور حسن سلوک سے محروم نہ تھا۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے خود حقوق ادا کرتے اور پھر دوسروں کو تاکید فرماتے تھے۔

urdu notes نثر نگار کی خصوصیات خَواجَہ حَسن نِظَامِی

نثر نگار کی خصوصیات


خَواجَہ حَسن نِظَامِی

ایک تعارف

رقصاں ہے لفظ لفظ میں اِک موجِ زندگ
بخشا ہے اُس نے نثر کو صدِ کیفِ نغمگی
 
خواجہ علی حسن نظامی اردو انشاءپردازی کے ایک مشہور و معروف ادیب گزرے ہیں۔ اُن کے دلچسپ اور اثرانگیز افسانے اُن کی شہرت کا باعث بنے۔علم دوست شخصیتوں نے علی حسن کے سفرناموں، افسانوں اور مضامین کو اپنے کتب خانوں کی زینت بنایا اور بہت کم عمر میں ہی وہ ایک صاحبِ طرز نثر نگار کی حیثیت سے پہچانے جانے لگے۔ اُنہوں نے معمولی مضامین خوبصورت اور دِل نشین انداز میں رقم طراز کئے اور اردو نثر کو جدت کی راہ پر گامزن کر دیا۔ آپ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے علامہ اقبال فرماتے ہیں
اگر میں خواجہ حسن نظامی جیسی نثر لکھنے پر قدرت رکھتا ہوتا تو کبھی شاعری کو اظہارِ خیال کا ذریعہ نہ بناتا۔ بلاشبہ اردو نثر نگاروں میں خواجہ حسن نظامی کی ذات قابلِ قدر ہے اور وہ ایک منفرد رنگ کے مالک ہیں۔ چند تصنیفات
  • دہلی کا آخری سانس
  • بیگمات کے آنسو
  • آپ بیتی
    • بہادر شاہ کا مقدمہ
  • بیوی کی تعلیم
  • اولاد کی شادی
  • غدرِ دہلی کے افسانے
  • خاک بیتی
  • اوس
  • شہزادی کی بپتا
  • سی پارہدل
  • میلاد نامہ


طرزِ تحریر کی خصوصیات

خواجہ حسن نظامی کے طرزِ تحریر کی خصوصیات درج ذیل ہیں:

(۱)سادگی و سلاست
خواجہ حسن نظامی زبان و بیان کی سادگی سے کام لیتے ہیں اور نہایت سہل زبان کو استعمال کرتے ہوئے بڑے مشکل مطالب بیان کر جاتے ہیں۔عام فہم الفاظ کے خوبصورت استعمال کی بدولت اُن کے نثر کی خوبصورتی برقرار رہتی ہے اور بوجھل پن محسوس نہیں ہوتا۔
بقول رام بابو سکسینہ:
خواجہ صاحب کی تحریریں نہایت سادہ، سلیس اور دلکش ہوتی ہیں۔

(۲) شوخی و ظرافت
زبان کی چاشنی اور چٹکلوں سے خواجہ حسن نظامی نے اپنی تحریروں میں مزاح کا رنگ پیدا کیا ہے۔ وہ جب کبھی مزاح کی چٹکی لیتے ہیں تو عام اور سیدھی بات کو گلاب کی سی رعنائی بخش دیتے ہیں۔ اُن کے مضامین میں عبارات ظرافت، شوخی اور لطافت کی چاشنی سے معمور نظرآتی ہیں۔
مثال کے طور پر وہ اپنے ایک مضمون پیاری ڈکار میں لکھتے ہیں:
یہ نئے فیشن کے مچھر کو زور سے ڈکار نہیں لینے دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ڈکار لینے لگے تو ہونٹوں کو بھینچ لو اور ناک کے نتھنوں سے اُسے چُپ چاپ اُڑا دو۔ آواز سے ڈکار لینی بڑی بدتمیزی ہے۔
ایک خط میں لکھتے ہیں:
میڈیکل اسٹور کی طرف جانا ہو تو میرے پیارے ڈاکٹر کا کان مڑوڑ دینا اور پریمی پیارا ملے تو اُسے منہ چڑا دینا۔

(۳) ندرتِ موضوعات
خواجہ صاحب کا کمالِ فن اُس وقت عروج پر نظر آتا ہے جب آپ کے انوکھے اور اچھوتے مضامین نظر سے گزرتے ہیں۔ انہوں نے نہایت انوکھے موضوعات پر خامہ فرسائی کرتے ہوئے اپنی مہارت کی معراج کو پایا اور بڑی خوبصورتی سے اِن مضامین کو پُر لیف بنا دیا۔
ایک مضمون گلاب تمھارا کیکر ہمارا میں لکھتے ہیں:
آخر یہ میاں گُلا ب کس مرض کی دوا نہیں۔ پیٹ میں درد ہو تو گل قند کھلاﺅ، ہیضہ ہو جائے تو گلاب پلاﺅ اور اگر مر جاﺅ تو قبر پر چڑھاﺅ۔
اِس کے علاوہ اُن کا یہ رنگ مندرجہ ذیل مضامین میں نظر آتا ہے:
  • جھینگر کا جنازہ
  • مچھر کا اعلانِ جنگ
  • دیا سلائی
  • مٹی کا تیل
  • فرام قبلہ ٹو شملہ
  • پیاری ڈکار
  • سوز و گداز
علی حسن صاحب کی بعض تحریروں میں درد و الم کا عکس نظر آتا ہے۔ خاص طور پر اُن کی تصنیف غدرِ دہلی کے افسانے کے مطالعے کے بعد ایسا لگتا ہے گویا مصنف نے تحریر اپنے خونِ دل سے رقم کی ہے۔ وہ اس قدر جذباتیت کے ساتھ رنج و الم کی تصویر کشی کرتے نظر آتے ہیں کہ قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

شہزادی کی بپتا میں لکھتے ہیں:
باﺅ بلبلا گئی۔ وہ کبھی پھول کی چھڑی سے نہ پٹی تھی۔ اب ایسا طمانچہ لگا کہ اُس کے رونے سے مجھ کو بھے بے اختیار روناآ گیا۔

(۵) عارفانہ وصوفیانہ طرزِ بیان
ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ حسن علی ایک صاحبِ دل صوفی بھی تھے۔ رشد و ہدایت کی مسند انہیں ورثے میں ملی تھی۔ وہ اپنے خیالات کو قلم بند کرتے ہوئے معرفت الٰہی کے رنگ میں بڑی خوبصورتی سے پرو دیتے ہیں۔ اسلوب میں والہانہ جوش اور ایک سچے عاشق کے دل کی صدا سنائی دیتی ہے۔
بقول رام بابو سکسینہ:
خواجہ صاحب کی کتاب کرپشن بیتی کو اہلِ اسلام اور خاص کراربابِ تصوّف نے بہت پسند کیا۔
(۶) محاورات و اختصار پسندی
نثرنگار کے مضامین کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ کی تحریروں میں فقرات مختصر اور جامع ہوتے ہیں۔ آپ آزاد کی طرح چھوٹے مگر با محاورہ جملے ترتیب دیتے ہیں جن میں روانی اور لطافت کا عنصر نمایاں طور پر پایا جاتا ہے۔ آپ کی تحریروں میں تسلسل کا دارومدار اِنہیں مختصر،سادہ و شیریں جملوں پر ہے۔

(۷) جذبات نگاری
خواجہ حسن نظامی کی تحریریں انسانی زندگی کے سچے واقعات کی عکاس ہیں۔ آپ اِن واقعات کوترتیب دیتے ہوئے جذبات کے اظہار کا بھرپور خیال رکھتے ہیں۔ مطالعہ کرنے کے بعد قاری کے دل و ذہن پر متاثر کن اثر باقی رہتا ہے جو قاری کے دلی جذبات سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔
بیگمات کے آنسو میں وہ لکھتے ہیں:
مجھے بخار چڑھ رہا ہے۔ میری پسلیوں میں شدت کا درد ہو رہا ہے۔ مجھے سردی لگ رہی ہے۔ میری ماں مجھ سے بچھڑ گئی ہے اور بابا حضرت جلا وطن ہو گئے۔ میں اینٹ پر سر رکھے لیٹی ہوں۔ میری بدن میں کنکر چبھ رہے ہیں۔ بابا اٹھو! کب تک سو گے؟


ناقدین کی آراہ

خواجہ علی حسن نظامی کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے مختلف نقاد اُن کی تعریف بیان کرتے نظر آتے ہیں۔
صلاح الدین احمد کہتے ہیں:
خواجہ صاحب کو رنج و الم کے مضامین بیان کرنے کا جو سلیقہ ہے اُس میں علامہ راشد الخیری کے علاوہ اُن کا کوئی ہم پلہ نہیں۔
بابائے اردو مولوی عبد الحق بیان کرتے ہیں:
اگر تم صاف ستھری اور نکھری ہوئی اردو پڑھنا اور سیکھنا چاہتے ہو تو خواجہ صاحب کی نثر پڑھو۔ زبان کے ساتھ ساتھ دلّی کے واقعات کا بھی ایک جہاں آباد ہے۔
اُن کے کسی دوست کا کہنا ہے
حسن نظامی کی پیری اور پیرزادی نے اُن کی انشاءپردازی کو چمکایا اور اُن کی انشاءپردازی نے اُن کی پیرزادی اور پیری کو شہرت دی۔
ڈاکٹر کلیم الدین احمد کہتے ہیں:
خواجہ صاحب کا اصل رنگ، خواجہ صاحب کی اصلی اہمیت اُن کی انشاءہے۔ وہ نہایت ہی آسان ، سادہ اور پُر تکلف طرز میں لکھتے ہیں۔
  

Sunday, November 10, 2013

Matric Urdu Notes Class 10th مرکزی خیال اور خلاصہ قرطبہ کا قاضی

Matric Urdu Notes Class 10th

مرکزی خیال اور خلاصہ

 قرطبہ کا قاضی

 مرکزی خیال

امتیاز علی تاج نے اپنے اس ڈرامے قرطبہ کا قاضی میں جس مرکزی کردار کو جگہ دی ہے وہ یہ ہے کہ انصاف کا ترازو عام و خاص، امیر و غریب، بلند و پست اور شاہ و گدا سب کے لئے یکساں ہوتا ہے۔ ایک عادل اور منصف حکمراں کی شان یہی ہے کہ وہ انصاف کے معاملے میں کسی کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتے اور اس کی حکمرانی میں انصاف کا بول بالا رہے۔ خواہ اس کی خاطر اسے بڑی سے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے
شرع کہتی ہے کہ قاتل کی اڑا دو گردن



خلاصہ

شہرِ قرطبہ کے قاضی یحیی بن منثور کا بیٹازبیر ایک رشتہ دار کی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا۔ ایک اور نوجوان بھی مہمان کی حیثیت سے قاضی کے گھر میں ٹہرا ہوا تھا وہ بھی اس لڑکی پر فریفتہ ہوجاتا ہے۔ زبیر رقابت کے جذبے سے مغلوب ہوکر اپنے رقیب کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے اور قاضی عدل و انصاف کے تقاضے کو پورا کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو پھانسی کی سزا سناتا ہے۔
قاضی کے قدیم نمک خوار عبداللہ اور اس کی بیوی حلاوہ قاضی کے اس فیصلے سے خوش نہیں تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ زبیر جب تین دن کا تھا تو اس کی ماں چل بسی اورحلاوہ ہی نے اسے دودھ پلایا تھا۔ وہ اسے ماں کی طرح چاہتی تھی۔ عبداللہ نے بھی زبیر کو گود میں کھلایا تھا۔ عبداللہ اور حلاوہ کو معلوم ہے کہ زبیر قصوروار ہے اور قاضی بڑا اصول پسند ہے۔ دونوں سخت پریشان ہیں۔ زبیر کے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ مگر عبداللہ کو اطمینان ہے اس کا خیال ہے کہ شہر کا ہر فرد زبیر کا حامی ہے اور کوئی بھی اسے تختہ دار پر چڑھانے کے لئے تیار نہیں۔ جلاد بھی روپوش ہوگیا اور عدالت کا کوئی افسر یا ماتحت بھی اس ناخوش گن فعل کو انجام دینے کے لئے تیار نہیں۔ بس ایک بی صورت رہ جاتی ہے کہ جلاد کا انتظام باہر سے کیا جائے۔ اس امکان کو دیکھتے ہوئے زبیر کے حامیوں نے شہر کے تمام راستوں کی ناکہ بندی کردی۔ حلاوہ پئر بھی مایوس ہے وہ جانتی ہے کہ قاضی اپنے فیصلے پر درآمد کرکے رہے گا۔
بے شمار لوگ قاضی کے مکان کے باہر کھڑے ہیں تاکہ ہر ممکن طریقہ سے اس سزا پر عمل درآمد نہ ہونے دیں۔ اتنے میں قاضی مکان کی بالائی منزل سے نیچے آکر پوچھتا ہے کہ سزائے موت کا انتظام کیوں نہیں ہورہا تو عبداللہ جواب دیتا ہے کہ اس حکم کی تعمل کے لئے کوئی بھی آمادہ نہیں۔ عدالت کے آدمیوں کو بلایا جاتا ہے تو وہ بھی معذوری ظاہر کرتے ہیں۔ غرض قاضی ہرطرف سے مایوس ہوکر عدالت کے آدمیوں کو کنجیاں دے کر حکم دیتا ہے کہ زبیر کو تختہ دار تک لے جاو۔
غم کی شدت سے قاضی کی حالت غیر ہورہی ہے مگر وہ انصاف اور قانون کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے پھانسی دے دیتا ہے۔ پھر وہ بھاری قدموں سے غم سے نڈھال اوپری منزل پر جاکر کمرے کو اندر سے ہمیشہ کے لئے بند کرلیتا ہے۔ اپنے غم سے نجات کی اسے صرف یہی ایک صورت نظر آئی تھی کہ وہ زندگی سے منہ موڑ لے۔


Matric Urdu Notes Class 10thمرکزی خیال اور خلاصہ (چین میں ایک دن اردو کے طالبعلموں کے ساتھ )

Matric Urdu Notes Class 10th

مرکزی خیال اور خلاصہ


چین میں ایک دن اردو کے طالبعلموں کے ساتھ

مرکزی خیال 

اس سفر نامے میں ابنِ انشاءنے ہمسایہ دوست ملک چین میں اردو کی مقبولیت کو بیان کیا ہے۔ اور بتایا ہے کہ زبانیں کسطرح سے آپس مےں محبت اور اتفاق کو بڑھاتی ہے۔ چین میں جہاں انہوں نے کچھ عرصے میں چینی زبان کو سیکھنے کی کوشش کی وہاں ان کو یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ ہمارے چینی بھائی اردو بڑے ذوق و شوق سے سیکھتے ہیں اور باقاعدہ اردو میں تعلیم کا انتظام ہے۔ اردوزبان کو سیکھنے کو ذوق و شوق بجائے خود اردو کی مقبولیت ثبوت ہے۔ غیر ملکی زبانوں سے ان کی یہ دلچسپی ہمیں بھی دوسری زبانوں کو سیکھنے کی طرف مائل کرتی ہے۔

خلاصہ

 ابن انشاءکو جب ہمسایہ مالک چین جانے کا موقع ملا تو وہ چینی زبان سے واقف نہ تھے۔ لیکن انہوں نے کوشش کرکے اس زبان کی ابتدائی باتیں سیکھ لی۔ پھر انہیں یہ اطمینان تھا کہ چےنی لوگوں کی گفتگو میں جو باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آئینگی وہ ان کا ترجمان ان کو اردو میں سمجھاتا رہے گا۔ بہر حال چین پہنچ کر وہ ترجمان کی عدم موجودگی میں بھی وہاں کے لوگوں کی باتیں آسانی سے سمجھتے رہے۔ یہاں طنزیہ و مزاحیہ انداز میں انہوں نے لکھا ہے کہ کچھ زبان زدو عام قسم کے الفاظ مثلاً شے شے(شکریہ) ان کے بہت کام آئے۔ ان دنوں اردو کے مشہور ادیب خاطر غزنوی بھی چین میں ہی تھے اور چینی زبان سیکھ رہے تھے۔ ابنِ انشاءنے طنزیہ انداز میں لکھا ہے کہ کافی دن گزرنے کے باوجود چینی زبان سے ان کی واقفیت بھی رسمی تھی۔
ایک دن ابنِ انشاءیونیورسٹی کے شعبہ اردو میں پہنچے وہاں مادام شان یون اردو پڑھانے پر مامور تھیں۔ انہوں نے مادام شان یو ن کو اپنی کتابیں پیش کیں اور پھر انکا شعبہ اردو کے طالب علموں سے تعارف ہوا اس پر یونیورسٹی اور شعبہ اردو میںچینی دستورکے مطابق سب نے تالیاں بجا بجا کر ان کا استقبال کیا۔ اردو پڑھنے والے جن طلباءسے تعارف ہوا ان میں کچھ اردو فرفر بولتے تھے۔ اور کچھ دقت کے ساتھ۔ اس کے بعد جب ہوسٹل دیکھنے کا موقع ملا تو یہاں بڑی سادہ سی صورتحال سامنے آئی۔ ہر کمرے میں دومنزلہ چارپائی اور ایک میز تھی۔ اور کتابوں کے لئے ایک الماری رکھی تھی۔ طلبہ بہرحال بڑی لگن سے اردو سیکھنے میں مصروف نظر آئے۔ مثلاً ان کی باتوں میں تذکیروتانیث کی کوئی غلطی دکھائی نہ دی۔

وہاں اردو کا اخبار ”جنگ“ بھی آتا تھا۔ اس کے بعد ابنِ انشاءکو لائبریری دیکھنے کا موقع ملا وہاں ادب کی کتنی ہی کتابیں موجود تھیں۔ ابنِ انشاءجس وفد کے ساتھ چین گئے تھے اس کے سربراہ چین میں اردو سے یہ دلچسپی اور ان کایہ فروغ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور انہوں نے شعبہ اردو کے طلباءکو چائے کی دعوت دی پھر جب ابن انشاءکو اردو کی صدر شعبہ کی تحریر دیکھنے کا موقع ملا تو وہ مزید متاثر ہوئے اس کہ لئے ان کا خط خاصہ صاف تھا۔
غرض طالبعلموں نے اردو میں یہ دسترس دوسال سے بھی کم عرصے میں حاصل کی تھی اور ان کو اردو سکھانے والی استاد نے اردو کسی ادارے سے نہیں بلکہ ایک چینی سے پڑھی تھی ان سب کی اردو سے وابستگی دیکھ کر ابنِ انشاءاور تمام ارکانِ وفد کے چہرے خوشی سے دمک اٹھے۔

URDU 2ND YEAR (New Book Modal Paper)